صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۵ - جادو کا اثر اور نبوی آزمائش
نبی کریم صلى الله عليه وسلم پر جادو والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۵
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سُحِرَ حَتَّى كَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ صَنَعَ شَيْئًا وَلَمْ يَصْنَعْهُ " .
عائشہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کر دیا گیا تھا۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ آپ سمجھتے کہ میں نے فلاں کام کر لیا ہے۔ حالانکہ آپ نے وہ کام نہ کیا ہوتا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع جادو کا اثر ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جادو کیا گیا تھا۔ اس اثر کی صورت حدیث میں یہ بیان ہوئی کہ کبھی آپ کو خیال ہوتا کہ آپ نے کوئی کام کر لیا ہے، حالانکہ وہ کام آپ نے نہیں کیا ہوتا تھا۔ اس حدیث میں اتنی ہی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے آگے اپنی طرف سے تفصیل بڑھانا درست نہیں۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ جادو کا ایک اثر ہوا، مگر روایت میں اسی مخصوص کیفیت کو ذکر کیا گیا ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے وقت ادب اور احتیاط ضروری ہے، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں روایت ہے۔ ہمیں متن کے اندر رہ کر بات کرنی چاہیے اور غیر ضروری دعوے نہیں کرنے چاہییں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں جادو کے اثر کو ایک خاص کیفیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بات کرتے وقت ادب ضروری ہے۔
- متن میں جتنی بات آئی ہے اسی تک رہنا چاہیے۔
- روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی خیال اور واقعہ میں فرق محسوس ہوا۔
