صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۶ - قیامت سے پہلے چھ نشانیاں
قیامت کی چھ نشانیاں والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۷۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۶
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ بُسْرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ ، قَالَ :سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : " اعْدُدْ سِتًّا بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ مَوْتِي ، ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، ثُمَّ مُوتَانٌ يَأْخُذُ فِيكُمْ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ ، ثُمَّ اسْتِفَاضَةُ الْمَالِ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَظَلُّ سَاخِطًا ، ثُمَّ فِتْنَةٌ لَا يَبْقَى بَيْتٌ مِنَ الْعَرَبِ إِلَّا دَخَلَتْهُ ، ثُمَّ هُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ فَيَغْدِرُونَ فَيَأْتُونَكُمْ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا " .
عوف بن مالک روایت:
میں غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ اس وقت چمڑے کے ایک خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ قیامت کی چھ نشانیاں شمار کر لو، میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح، پھر ایک وبا جو تم میں شدت سے پھیلے گی جیسے بکریوں میں طاعون پھیل جاتا ہے۔ پھر مال کی کثرت اس درجہ میں ہو گی کہ ایک شخص سو دینار بھی اگر کسی کو دے گا تو اس پر بھی وہ ناراض ہو گا۔پھر فتنہ اتنا تباہ کن عام ہو گا کہ عرب کا کوئی گھر باقی نہ رہے گا جو اس کی لپیٹ میں نہ آ گیا ہو گا۔ پھر صلح جو تمہارے اور بنی الاصفر (نصارائے روم) کے درمیان ہو گی، لیکن وہ دغا کریں گے اور ایک عظیم لشکر کے ساتھ تم پر چڑھائی کریں گے۔ اس میں اسی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار فوج ہو گی (یعنی نو لاکھ ساٹھ ہزار فوج سے وہ تم پر حملہ آور ہوں گے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع قیامت سے پہلے کی نشانیاں ہے۔ عوف بن مالک رضی اللہ عنہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ چمڑے کے خیمے میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ باتیں شمار کرو: آپ کی وفات، بیت المقدس کی فتح، ایک سخت وبا، مال کی اتنی کثرت کہ سو دینار لینے والا بھی ناراض ہو، ایک فتنہ جو عرب کے ہر گھر تک پہنچے، اور پھر بنی الاصفر کے ساتھ صلح جس کے بعد وہ دغا کریں گے اور بڑے لشکر کے ساتھ آئیں گے۔ اس حدیث میں ہر بات کو ترتیب کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ہمیں اسے اسی ترتیب اور الفاظ کے احترام کے ساتھ سمجھنا چاہیے، بغیر اپنی طرف سے تاریخیں یا اضافی تفصیل لگائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے کی چھ نشانیاں ترتیب سے بیان فرمائیں۔
- مال کی کثرت بھی انسان کو لازماً مطمئن نہیں کرتی، جیسا کہ حدیث میں مثال آئی۔
- فتنہ بعض اوقات بہت وسیع ہو سکتا ہے۔
- صلح کے بعد دغا کا ذکر اس حدیث میں ایک خاص نشانی کے طور پر آیا ہے۔
