صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۸ - زمین کے حق میں ظلم سے بچاؤ
زمین کا حق دبانے کی حدیث: ایک بالشت بھی ناحق نہ لو
صحیح بخاری : ۳۱۹۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۹۸
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ أَنَّهُ خَاصَمَتْهُ أَرْوَى فِي حَقٍّ زَعَمَتْ أَنَّهُ انْتَقَصَهُ لَهَا إِلَى مَرْوَانَ ، فَقَالَ : سَعِيدٌ أَنَا أَنْتَقِصُ مِنْ حَقِّهَا شَيْئًا أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ ظُلْمًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، قَالَ : ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : قَالَ لِي : سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سعید بن زید بن عمرو بن نفیل روایت:
ارویٰ بنت ابی اوس سے ان کا ایک (زمین کے) بارے میں جھگڑا ہوا۔ جس کے متعلق ارویٰ کہتی تھی کہ سعید نے میری زمین چھین لی۔ یہ مقدمہ مروان خلیفہ کے یہاں فیصلہ کے لیے گیا جو مدینہ کا حاکم تھا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا بھلا کیا میں ان کا حق دبا لوں گا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے کسی کی دبا لی تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ابن ابی الزناد نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے (تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بیان فرمائی تھی)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زمین کا حق ہے۔ سعید بن زید رضی اللہ عنہ پر ارویٰ بنت ابی اوس نے زمین کے بارے میں دعویٰ کیا۔ معاملہ حاکم مروان کے سامنے گیا۔ سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ان کا حق دبا سکتا ہوں، جبکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جس نے ایک بالشت زمین بھی ظلم سے دبا لی، قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔ یہ حدیث زمین کے مقدمات، حق کے دعووں، اور ناحق قبضے میں اللہ کی پکڑ یاد دلاتی ہے۔ اس میں حق دار کا حق ماننے اور ظلم سے بچنے کا صاف پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جھگڑے میں اپنے دعوے کو اللہ کے خوف کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
- زمین کا حق دبانا قیامت کی سخت وعید کا سبب ہے۔
- صحابی نے اپنے دفاع میں نبی صلى الله عليه وسلم کی حدیث کو دلیل بنایا۔
