صحیح بخاری حدیث ۳۲۳ - حیض میں ساتھ لیٹنے کا بیان
حیض میں ساتھ لیٹنے کا حکم: ام سلمہؓ کی روایت
صحیح بخاری : ۳۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " بَيْنَا أَنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعَةً فِي خَمِيلَةٍ حِضْتُ ، فَانْسَلَلْتُ فَأَخَذْتُ ثِيَابَ حِيضَتِي ، فَقَالَ : أَنُفِسْتِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَدَعَانِي فَاضْطَجَعْتُ مَعَهُ فِي الْخَمِيلَةِ " .
ام سلمہ روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھی کہ مجھے حیض آ گیا، میں چپکے سے چلی گئی اور حیض کے کپڑے بدل لیے، آپ نے پوچھا کیا تجھ کو حیض آ گیا ہے۔ میں نے کہا، جی ہاں! پھر مجھے آپ نے بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ چادر میں لیٹ گئی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ایک چادر میں لیٹی ہوئی تھیں۔ اسی دوران انہیں حیض آ گیا۔ وہ چپکے سے اٹھیں اور حیض کے کپڑے بدل لیے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہیں حیض آ گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں بلایا اور وہ دوبارہ آپ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ اسی چادر میں لیٹ گئیں۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ حیض کی حالت عورت کے لیے شرمندگی یا سخت دوری کا سبب نہیں بنائی گئی۔ حائضہ عورت کے احکام میں پاکیزگی کا خیال ضرور ہے، مگر اس حدیث میں نبی صلى الله عليه وسلم کے نرم اور مہربان انداز کو بھی صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے حیض میں ساتھ لیٹنے کی حدیث کو سمجھتے ہوئے روایت کے الفاظ ہی کو سامنے رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض آنے پر ام سلمہؓ نے پاکیزگی کے لیے اپنے کپڑے بدل لیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حیض کی حالت میں بھی ام سلمہؓ کو اپنے ساتھ چادر میں جگہ دی۔
- گھریلو زندگی میں نرمی، سکون اور سمجھ داری کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔
