صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۴ - نماز میں شیطان کی رکاوٹ اور اللہ کی مدد

نماز میں شیطان کی رکاوٹ: اللہ کی مدد پر بھروسہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۸۴

حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنَّهُ صَلَّى صَلَاةً ، فَقَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ عَرَضَ لِي فَشَدَّ عَلَيَّ يَقْطَعُ الصَّلَاةَ عَلَيَّ فَأَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْهُ فَذَكَرَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آ گیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کر دیا۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نماز میں شیطان کی رکاوٹ کا ذکر ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے نماز کے بعد فرمایا کہ شیطان آپ صلى الله عليه وسلم کے سامنے آیا اور نماز تڑوانے کی کوشش کرنے لگا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کو اس پر غالب کر دیا۔ اس حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے: نماز ایک اہم عبادت ہے، اس لیے شیطان انسان کو اس میں الجھانے یا توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ اصل مدد اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے۔ بندہ نماز میں کھڑا ہو تو دل کو اللہ کی طرف رکھے اور وسوسوں سے گھبرائے نہیں۔ حدیث میں جو بات آئی ہے، وہ یہی ہے کہ شیطان نے رکاوٹ ڈالی، مگر اللہ نے اپنے نبی صلى الله عليه وسلم کو اس پر قابو دیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں شیطان رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
  • اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے۔
  • نماز کی حفاظت اور توجہ کی فکر کرنا ضروری ہے۔
  • وسوسہ آئے تو گھبرانے کے بجائے اللہ پر بھروسہ کیا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں