صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۷ - قوم ثمود اور اونٹنی کا واقعہ

قوم ثمود کی اونٹنی کو مارنے والے شخص کا ذکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۷۷

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "وَذَكَرَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ ، قَالَ : انْتَدَبَ لَهَا رَجُلٌ ذُو عِزٍّ وَمَنَعَةٍ فِي قُوَّةٍ كَأَبِي زَمْعَةَ " .

عبداللہ بن زمعہ روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (خطبہ کے دوران) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قوم کا ذکر کیا جنہوں نے اونٹنی کو ذبح کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اللہ کی قسم بھیجی ہوئی) اس (اونٹنی) کو ذبح کرنے والا قوم کا ایک بہت ہی باعزت آدمی (قیدار نامی) تھا ‘ جیسے ہمارے زمانے میں ابوزمعہ (اسود بن مطلب) ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خطبہ میں اس قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا جس نے اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی کو ذبح کیا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اس اونٹنی کے لیے ایک ایسا شخص اٹھا جو اپنی قوم میں عزت، طاقت اور حمایت رکھنے والا تھا، جیسے اس زمانے میں ابوزمعہ کی مثال دی گئی۔ اس حدیث کا موضوع قوم ثمود، صالح علیہ السلام کی اونٹنی، اور طاقت والے شخص کا غلط کام میں آگے بڑھنا ہے۔ متن میں صرف اتنی بات بیان ہوئی ہے، اس لیے اس سے بڑھ کر تفصیل شامل نہیں کی گئی۔ ایس ای او الفاظ میں قوم ثمود کی اونٹنی، ناقہ صالح، اونٹنی کو ذبح کرنے والا، اور ثمود کی حدیث اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قوم ثمود کی اونٹنی کے واقعے کا ذکر نبی صلى الله عليه وسلم نے خطبہ میں فرمایا۔
  • اونٹنی کو مارنے کے لیے قوم کا طاقتور شخص آگے آیا۔
  • عزت اور طاقت غلط کام کے لیے استعمال ہو تو یہ قابل تعریف نہیں۔
  • پچھلی قوموں کے واقعات سن کر انسان کو سوچنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں