صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۸ - حجر کے کنوؤں کے پانی سے بچنے کا حکم

حجر کے کنوؤں کا پانی: نبی صلى الله عليه وسلم کی احتیاطی ہدایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۷۸

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ أَبُو الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ بْنِ حَيَّانَ أَبُو زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا نَزَلَ الْحِجْرَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَهُمْ أَنْ لَا يَشْرَبُوا مِنْ بِئْرِهَا وَلَا يَسْتَقُوا مِنْهَا ، فَقَالُوا : قَدْ عَجَنَّا مِنْهَا وَاسْتَقَيْنَا فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَطْرَحُوا ذَلِكَ الْعَجِينَ وَيُهَرِيقُوا ذَلِكَ الْمَاءَ " ، وَيُرْوَى عَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، وَأَبِي الشُّمُوسِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِلْقَاءِ الطَّعَامِ ، وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنِ اعْتَجَنَ بِمَائِهِ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجر (ثمود کی بستی) میں غزوہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پینا اور نہ اپنے برتنوں میں ساتھ لینا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے اپنا آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی اپنے برتنوں میں بھی رکھ لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ جس نے آٹا اس پانی سے گوندھ لیا ہو (وہ اسے پھینک دے)۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں بیان ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم غزوہ تبوک کے سفر میں جب حجر کے مقام پر اترے تو صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پئیں اور نہ برتنوں میں ساتھ لیں۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم نے اسی پانی سے آٹا گوندھ لیا ہے اور پانی بھی بھر لیا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور پانی بہا دیا جائے۔ روایت کے الفاظ میں ابوذر رضی اللہ عنہ کا حوالہ بھی آتا ہے کہ جس نے اس پانی سے آٹا گوندھا ہو۔ اس حدیث کا موضوع حجر، ثمود کی بستی، پانی سے احتیاط، اور نبی صلى الله عليه وسلم کی ہدایت ہے۔ یہاں اصل بات حکم کی پابندی ہے، نہ کہ اپنی طرف سے قیاس بڑھانا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے حجر کے کنوؤں کا پانی استعمال کرنے سے منع فرمایا۔
  • صحابہ نے حکم ملنے پر گندھا ہوا آٹا اور پانی چھوڑ دیا۔
  • دینی ہدایت مل جائے تو اپنی سہولت کے بجائے حکم کو مقدم رکھا جاتا ہے۔
  • پچھلی قوموں کے مقامات کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے خاص احتیاط سکھائی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں