صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۰ - ظالم قوموں کی بستی سے گزرتے وقت
ظالم قوموں کی بستی سے گزرتے وقت عبرت اور خوف
صحیح بخاری : ۳۳۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۰
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ ، قَالَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ ثُمَّ تَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ " .
عبداللہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مقام حجر سے گزرے تو فرمایا ”ان لوگوں کی بستی میں جنہوں نے ظلم کیا تھا نہ داخل ہو ‘ لیکن اس صورت میں کہ تم روتے ہوئے ہو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈال لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کجاوے پر تشریف رکھتے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیان ہے کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب حجر کے مقام سے گزرے تو فرمایا کہ ان لوگوں کی بستی میں داخل نہ ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، مگر اس حال میں کہ تم روتے ہوئے ہو۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر وہی عذاب آ جائے جو ان پر آیا تھا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی چادر چہرہ مبارک پر ڈال لی جبکہ آپ کجاوے پر تھے۔ اس حدیث کا موضوع عبرت، خوف، اور پچھلی قوموں کے مقامات کے بارے میں سنجیدگی ہے۔ یہ کسی سیر و تفریح کا انداز نہیں، بلکہ دل کو نرم رکھنے کی تعلیم ہے۔ ایس ای او کے اہم الفاظ ظالم قوموں کی بستی، حجر ثمود، روتے ہوئے داخل ہونا، اور قوم ثمود کا عذاب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظالم قوموں کے مقامات پر بے فکری کے ساتھ داخل نہیں ہونا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ایسے مقام سے گزرتے ہوئے رونے اور عبرت کا حکم فرمایا۔
- حدیث میں پچھلی قوم کے عذاب سے ڈرنے کی بات آئی ہے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خود بھی چادر سے چہرہ ڈھانپ لیا۔
