صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۱ - پچھلی قوموں کے عذاب سے عبرت

قوموں کے انجام سے عبرت: روتے ہوئے گزرنے کی ہدایت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۱

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، سَمِعْتُ يُونُسَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُونُوا بَاكِينَ ، أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ " .

ابن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں ان لوگوں کی بستی سے گزرنا پڑے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو۔ کہیں تمہیں بھی وہ عذاب آ نہ پکڑے جس میں یہ ظالم لوگ گرفتار کئے گئے تھے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کی بستی سے گزرو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا تو روتے ہوئے گزرو، کہیں تمہیں بھی وہی عذاب نہ آ پکڑے جس میں وہ لوگ گرفتار کیے گئے تھے۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے۔ پچھلی قوموں کے مقامات کو صرف دیکھنے کی چیز نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ ان سے عبرت لینی چاہیے۔ حدیث میں رونے کا ذکر دل کے خوف، سنجیدگی اور اللہ کی پکڑ سے بچنے کے احساس کے ساتھ آیا ہے۔ اس روایت کا ایس ای او موضوع قوم ثمود، حجر، ظالم قوموں کی بستی، اور عبرت کی حدیث ہے۔ تشریح کو اسی متن تک رکھا گیا ہے، تاکہ کوئی اضافی واقعہ شامل نہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظالم قوموں کے مقامات سے گزرتے وقت عبرت کا حال ہونا چاہیے۔
  • حدیث میں روتے ہوئے گزرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
  • اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہونا درست انداز نہیں۔
  • پچھلی قوموں کے انجام کو سنجیدگی سے یاد کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں