صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۷ - قید یوسف اور اللہ کی پناہ
اللہ کا مضبوط سہارا اور یوسف علیہ السلام کی قید کا ذکر
صحیح بخاری : ۳۳۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۷
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ هُوَ ابْنُ أَخِي جُوَيْرِيَةَ ، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَأَبَا عُبَيْدٍ أَخْبَرَاهُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا لَقَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ أَتَانِي الدَّاعِي لَأَجَبْتُهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن (یعنی اللہ تعالیٰ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس (بادشاہ کا آدمی) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں دو نبیوں کا ذکر ہے: لوط علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے، وہ ایک زبردست رکن یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ لیتے تھے۔ پھر آپ نے یوسف علیہ السلام کی قید کا ذکر فرمایا کہ اگر میں اتنی مدت قید میں رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے، پھر بلانے والا آتا تو میں اس کے ساتھ چلا جاتا۔ اس حدیث میں اللہ کی پناہ، مضبوط سہارا، قید یوسف اور انبیاء کے ادب کا مضمون ملتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوط علیہ السلام کے بارے میں رحمت کی دعا فرمائی اور یوسف علیہ السلام کے واقعے کو اپنے الفاظ میں یاد فرمایا۔ اس سے بندے کو یہ سمجھ آتی ہے کہ سخت حالات میں اصل سہارا اللہ ہی ہے، اور انبیاء علیہم السلام کے حالات میں صبر اور عزت دونوں کے پہلو موجود ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوط علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی مضبوط پناہ لیتے تھے۔
- سخت حالات میں بندے کا اصل سہارا اللہ ہے۔
- یوسف علیہ السلام کی قید کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احترام سے فرمایا۔
- انبیاء علیہم السلام کے حالات کو ادب کے ساتھ بیان کرنا چاہیے۔
