صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۶ - کمزور مومنوں کے لیے دعا
کمزور مسلمانوں کے لیے دعا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت بھری التجا
صحیح بخاری : ۳۳۸۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَنْجِ عَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ سَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ ، اللَّهُمَّ أَنْجِ الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ ، اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف» ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے ‘ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے ‘ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے ‘ اے اللہ تمام ضعیف اور کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ اے اللہ! قبیلہ مضر کو سخت گرفت میں پکڑ لے۔ اے اللہ! یوسف علیہ السلام کے زمانے کی سی قحط سالی ان (ظالموں) پر نازل فرما۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع دعا اور کمزور مومنوں کی مدد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیاش بن ابی ربیعہ، سلمہ بن ہشام، ولید بن ولید اور تمام کمزور مسلمانوں کے لیے نجات کی دعا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مظلوم اور کمزور اہل ایمان کے لیے دعا کرنا ایک اہم عمل ہے۔ آپ نے قبیلہ مضر کے بارے میں بھی سخت گرفت کی دعا کی اور فرمایا کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسی قحط سالی نازل فرما۔ یہ روایت دعا کی حدیث، مظلوم مسلمانوں کے لیے دعا اور اللہ سے مدد مانگنے کے موضوعات سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں خاص نام لے کر دعا بھی ہے اور عام کمزور مومنوں کے لیے بھی دعا ہے۔ لہٰذا مسلمان کو اپنے بھائیوں کے لیے خیر، نجات اور آسانی کی دعا کرنی چاہیے، خاص طور پر جب وہ کمزوری یا ظلم میں ہوں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کمزور اور دبے ہوئے مومنوں کے لیے دعا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے۔
- دعا میں خاص لوگوں کے نام لے کر بھی اللہ سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔
- ظلم اور سختی کے مقابلے میں اللہ ہی سے نجات طلب کی جاتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور مسلمانوں کو اپنی دعا میں یاد رکھا۔
