حدیث ۳۳۸۵

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۵

حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ يَحْيَى الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ كَذَا ، فَقَالَ : مِثْلَهُ ، فَقَالَتْ : مِثْلَهُ ، فَقَالَ : مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ فَأَمَّ أَبُو بَكْرٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، فَقَالَ : حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ رَجُلٌ رَقِيقٌ .

´ہم سے ربیع بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالملک بن عمیر نے ‘ ان سے ابوبردہ بن ابی موسیٰ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نہایت نرم دل انسان ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی حکم فرمایا اور انہوں نے بھی وہی عذر دہرایا۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہو نماز پڑھائیں۔ تم تو یوسف کی ساتھ والیاں ہو۔ (ظاہر کچھ باطن کچھ) چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امامت کی اور حسین بن علی جعفی نے زائدہ سے «رجل رقيق‏.» کے الفاظ نقل کئے کہ ابوبکر نرم دل آدمی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں