صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۶ - نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے فکر

نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی امت کے لیے فکر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۲۶

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَثَلِي وَمَثَلُ النَّاسِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَجَعَلَ الْفَرَاشُ وَهَذِهِ الدَّوَابُّ تَقَعُ فِي النَّارِ .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری اور تمام انسانوں کی مثال ایک ایسے شخص کی سی ہے جس نے آگ روشن کی ہو۔ پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس میں گرنے لگے ہوں۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی پیغام ہدایت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لوگوں کے لیے خیرخواہی ہے۔ آپ نے اپنی اور انسانوں کی مثال اس شخص جیسی بیان فرمائی جس نے آگ روشن کی، پھر پروانے اور کیڑے مکوڑے اس آگ میں گرنے لگے۔ یہ مثال بہت آسان ہے، مگر اس میں گہرا سبق ہے۔ انسان کبھی ایسی چیزوں کی طرف کھنچ جاتا ہے جو اسے نقصان پہنچا سکتی ہیں، جیسے پروانے آگ کی طرف جاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس نقصان سے بچانے والے ہیں۔ حدیث میں الفاظ کم ہیں، مگر پیغام صاف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات انسان کو آگ سے بچانے اور صحیح راستے کی طرف بلانے کے لیے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے لیے خیرخواہ ہیں۔
  • غلط راستہ کبھی پرکشش دکھائی دے سکتا ہے مگر نقصان دہ ہوتا ہے۔
  • ہدایت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کیونکہ یہ بچاؤ کا ذریعہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں