صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۷ - سلیمان علیہ السلام کا حکیمانہ فیصلہ

سلیمان علیہ السلام کے حکیمانہ فیصلے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۲۷

وَقَالَ : كَانَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا ، فَقَالَتْ : صَاحِبَتُهَا إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ ، وَقَالَتْ : الْأُخْرَى إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى فَخَرَجَتَا عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ ، فَقَالَ : ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا ، فَقَالَتْ : الصُّغْرَى لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : وَاللَّهِ إِنْ سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ إِلَّا يَوْمَئِذٍ وَمَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةُ .

´اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ` دو عورتیں تھیں اور دونوں کے ساتھ دونوں کے بچے تھے۔ اتنے میں ایک بھیڑیا آیا اور ایک عورت کے بچے کو اٹھا لے گیا۔ ان دونوں میں سے ایک عورت نے کہا بھیڑیا تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے اور دوسری نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو لے گیا ہے۔ دونوں داؤد علیہ السلام کے یہاں اپنا مقدمہ لے گئیں۔ آپ نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے یہاں آئیں اور انہیں اس جھگڑے کی خبر دی۔ انہوں نے فرمایا کہ اچھا چھری لاؤ۔ اس بچے کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کے درمیان بانٹ دوں۔ چھوٹی عورت نے یہ سن کر کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے ایسا نہ کیجئے، میں نے مان لیا کہ اسی بڑی کا لڑکا ہے۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے اس چھوٹی کے حق میں فیصلہ کیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے «سكين» کا لفظ اسی دن سنا، ورنہ ہم ہمیشہ (چھری کے لیے) «مدية‏.» کا لفظ بولا کرتے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عدل، حکمت اور ماں کی سچی محبت کا واقعہ ہے۔ دو عورتوں کے ساتھ ان کے بچے تھے، پھر بھیڑیا ایک بچے کو لے گیا۔ دونوں نے باقی بچے کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ میرا ہے۔ معاملہ داؤد علیہ السلام کے پاس گیا تو انہوں نے بڑی عورت کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر دونوں سلیمان علیہ السلام کے پاس آئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ چھری لاؤ، بچے کو دو حصوں میں بانٹ دیتا ہوں۔ یہ سن کر چھوٹی عورت نے کہا کہ ایسا نہ کریں، بچہ بڑی کا ہی سمجھ لیں۔ اس پر سلیمان علیہ السلام نے بچے کا فیصلہ چھوٹی عورت کے حق میں کیا۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی سچائی انسان کے ردعمل سے ظاہر ہو جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فیصلہ کرتے وقت حکمت اور سمجھ بہت اہم ہے۔
  • سچی ماں بچے کی جان کو اپنے دعوے سے زیادہ اہم سمجھتی ہے۔
  • ظاہری دعوے کے ساتھ انسان کے عمل کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں