صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۸ - شرک سب سے بڑا ظلم ہے
شرک سب سے بڑا ظلم ہے: ایمان والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۲۸
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 ، قَالَ : أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَيُّنَا لَمْ يَلْبِسْ إِيمَانَهُ بِظُلْمٍ فَنَزَلَتْ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عرض کیا ہم میں ایسا کون ہو گا جس نے اپنے ایمان میں ظلم نہیں کیا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تشرك بالله إن الشرك لظلم عظيم» ”اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا۔ بیشک شرک ہی ظلم عظیم ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع شرک اور ایمان ہے۔ جب آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان میں ظلم کی ملاوٹ نہیں کی، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پریشان ہوئے کہ ہم میں کون ہے جس نے ظلم نہ کیا ہو۔ پھر آیت نازل ہوئی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ اس سے بات واضح ہوئی کہ یہاں ظلم سے مراد عام غلطی یا نفس پر زیادتی نہیں، بلکہ اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ یہ حدیث قرآن کی آیت کو دوسری آیت سے سمجھنے کی خوبصورت مثال بھی ہے۔ اس میں ایمان کی حفاظت، توحید کی اہمیت اور شرک سے بچنے کا صاف سبق موجود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی سب سے بڑی حفاظت توحید سے ہوتی ہے۔
- اس آیت میں ظلم سے مراد شرک بیان ہوا ہے۔
- قرآن کو سمجھنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت اصل رہنمائی ہے۔
