صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۹ - ظلم سے مراد شرک ہے
ظلم سے مراد شرک ہے: نبی صلى الله عليه وسلم کی وضاحت
صحیح بخاری : ۳۴۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۲۹
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82 شَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّنَا لَا يَظْلِمُ نَفْسَهُ ، قَالَ : لَيْسَ ذَلِكَ إِنَّمَا هُوَ الشِّرْكُ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا ، قَالَ : لُقْمَانُ لِابْنِهِ وَهُوَ يَعِظُهُ يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13 " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو مسلمانوں پر بڑا شاق گزرا اور انہوں نے عرض کیا ہم میں کون ایسا ہو سکتا ہے جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہ کی ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، ظلم سے مراد آیت میں شرک ہے۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا تھا اسے نصیحت کرتے ہوئے کہ اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بیشک شرک بڑا ہی ظلم ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں شرک کے معنی اور ایمان کی حفاظت کا اہم سبق ہے۔ جب آیت نازل ہوئی کہ ایمان والوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم نہیں ملایا، تو مسلمانوں پر یہ بات بھاری گزری۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم میں کون ہے جو اپنے نفس پر ظلم نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا یہ مطلب نہیں، بلکہ ظلم سے مراد شرک ہے۔ پھر آپ نے لقمان علیہ السلام کی نصیحت کا حوالہ دیا کہ اے بیٹے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا، بے شک شرک بڑا ظلم ہے۔ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی بات سمجھنے میں سوال کرنا درست ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح سے پریشانی دور ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی بات سمجھ نہ آئے تو اہل علم سے پوچھنا چاہیے۔
- شرک کو حدیث میں بڑا ظلم بتایا گیا ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کا صحیح مطلب واضح فرمایا۔
