صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۵ - نبی صلى الله عليه وسلم کی حد سے زیادہ تعریف نہ کرو
نبی صلى الله عليه وسلم کو اللہ کا بندہ اور رسول کہنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۵
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ ، فَقُولُوا : عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " .
عمر روایت:
´ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زہری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے یہی کہا کرو (میرے متعلق) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۵ کا خلاصہ
یہ حدیث عقیدہ، توحید اور نبی صلى الله عليه وسلم کے ادب کو بہت صاف انداز میں بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے نصاریٰ نے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو بڑھا دیا۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس لیے میرے بارے میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول کہو۔ اس حدیث میں محبت کو رد نہیں کیا گیا، بلکہ محبت کو درست حد میں رکھنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم کی شان بہت بلند ہے، مگر عبادت صرف اللہ کے لیے ہے۔ جو لوگ نبی صلى الله عليه وسلم کی تعریف کی حدیث، عبد اللہ ورسولہ حدیث، یا حد سے زیادہ تعریف نہ کرو حدیث تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ روایت عقیدہ درست رکھنے کی بنیادی تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی محبت کے ساتھ توحید کی حد بھی قائم رہنی چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے لیے اللہ کا بندہ اور رسول کا وصف پسند فرمایا۔
- عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نصاریٰ کی زیادتی سے بچنے کی تنبیہ کی گئی۔
- تعریف میں حد سے بڑھنا درست عقیدے کے خلاف جا سکتا ہے۔
