صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۴ - عیسیٰ علیہ السلام کا حسن ظن
حسن ظن کی حدیث: عیسیٰ علیہ السلام کا ایمان اور احتیاط
صحیح بخاری : ۳۴۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۴۴
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رَأَى عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَجُلًا يَسْرِقُ ، فَقَالَ لَهُ : أَسَرَقْتَ ، قَالَ : كَلَّا وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، فَقَالَ عِيسَى : آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا پھر اس سے دریافت فرمایا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ آپ نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا اور اس سے پوچھا کہ کیا تم نے چوری کی ہے؟ اس شخص نے اللہ کی قسم کھا کر انکار کیا۔ اس پر عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا۔ اس روایت کا موضوع حسن ظن، قسم کی حرمت اور بات کو احتیاط سے لینے کا ہے۔ یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ چوری معمولی ہے، بلکہ حدیث میں عیسیٰ علیہ السلام کا طرز بیان دکھایا گیا ہے کہ جب اللہ کا نام لے کر بات کہی گئی تو انہوں نے اپنی رائے کو پیچھے رکھا۔ اس سے قاری کو سمجھ آتا ہے کہ بدگمانی، جلد فیصلہ اور الزام لگانے سے بچنا چاہیے، خاص طور پر جب معاملہ اللہ کے نام کی قسم سے جڑا ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی پر الزام لگاتے وقت احتیاط ضروری ہے۔
- اللہ کے نام کی قسم کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے دیکھے ہوئے معاملے میں بھی نرمی اور احتیاط دکھائی۔
- حدیث ہمیں جلدی فیصلہ کرنے سے بچنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
