صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۷ - جانور پر رحم اور مغفرت
پیاسے کتے کو پانی پلانے کی حدیث: رحم بھی عبادت ہے
صحیح بخاری : ۳۴۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۶۷
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَمَا كَلْبٌ يُطِيفُ بِرَكِيَّةٍ كَادَ يَقْتُلُهُ الْعَطَشُ إِذْ رَأَتْهُ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي إِسْرَائِيلَ فَنَزَعَتْ مُوقَهَا فَسَقَتْهُ فَغُفِرَ لَهَا بِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ”ایک کتا ایک کنویں کے چاروں طرف چکر کاٹ رہا تھا جیسے پیاس کی شدت سے اس کی جان نکل جانے والی ہو کہ بنی اسرائیل کی ایک زانیہ عورت نے اسے دیکھ لیا۔ اس عورت نے اپنا موزہ اتار کر کتے کو پانی پلایا اور اس کی مغفرت اسی عمل کی وجہ سے ہو گئی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث جانوروں پر رحم اور چھوٹی نظر آنے والی نیکی کی قدر سکھاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ ایک کتا کنویں کے گرد چکر لگا رہا تھا اور پیاس سے قریب تھا کہ مر جائے۔ بنی اسرائیل کی ایک عورت نے اسے دیکھا، اپنا موزہ اتارا اور اسے پانی پلایا۔ اسی عمل کی وجہ سے اس کی مغفرت ہوئی۔ حدیث کا پیغام بہت صاف ہے کہ اللہ کے بندوں ہی نہیں، بے زبان مخلوق پر بھی رحم کرنا پسندیدہ عمل ہے۔ انسان کو کسی نیکی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔ کبھی ایک خالص رحم والا عمل بھی اللہ کے ہاں بہت وزن رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بے زبان جانوروں پر رحم کرنا اللہ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔
- پیاسے کو پانی پلانا بڑی نیکی ہے، چاہے وہ جانور ہی کیوں نہ ہو۔
- کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے۔
- رحم دل انسان اللہ کی رحمت کی امید رکھ سکتا ہے۔
