صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۳ - جان کی حفاظت اور خودکشی کی سخت ممانعت
خودکشی کی حدیث: جان اللہ کی امانت ہے
صحیح بخاری : ۳۴۶۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۶۳
حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا جُنْدَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ وَمَا نَسِينَا مُنْذُ حَدَّثَنَا وَمَا نَخْشَى ، أَنْ يَكُونَ جُنْدُبٌ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ بِهِ جُرْحٌ فَجَزِعَ فَأَخَذَ سِكِّينًا فَحَزَّ بِهَا يَدَهُ فَمَا رَقَأَ الدَّمُ حَتَّى مَاتَ ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى بَادَرَنِي عَبْدِي بِنَفْسِهِ حَرَّمْتُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ " .
جندب بن عبداللہ روایت:
´مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے حسن نے، کہا ہم سے جندب بن عبداللہ نے اسی مسجد میں بیان کیا (حسن نے کہا کہ) انہوں نے جب ہم سے بیان کیا ہم اسے بھولے نہیں اور نہ ہمیں اس کا اندیشہ ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس حدیث کی نسبت غلط کی ہو گی، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پچھلے زمانے میں ایک شخص (کے ہاتھ میں) زخم ہو گیا تھا اور اسے اس سے بڑی تکلیف تھی، آخر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خون بہنے لگا اور اسی سے وہ مر گیا پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میرے بندے نے خود میرے پاس آنے میں جلدی کی اس لیے میں نے بھی جنت کو اس پر حرام کر دیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۳ کا خلاصہ
یہ حدیث خودکشی کی ممانعت اور جان کی حفاظت کے بارے میں بہت واضح پیغام دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پچھلے زمانے کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا جسے زخم لگا، تکلیف بڑھی، پھر اس نے چھری سے اپنا ہاتھ کاٹ لیا اور خون بہنے سے مر گیا۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ اس نے اپنی جان کے معاملے میں جلدی کی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے جنت کو حرام فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تکلیف، بیماری یا پریشانی میں بھی انسان کو اپنی جان ختم کرنے کا اختیار نہیں۔ جان اللہ کی امانت ہے، اس لیے مسلمان کو صبر، دعا اور جائز علاج کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انسان کو اپنی جان ختم کرنے کا اختیار نہیں، جان اللہ کی امانت ہے۔
- شدید تکلیف میں بھی صبر اور اللہ کے فیصلے کا انتظار ضروری ہے۔
- اپنے ہاتھ سے موت کو جلدی لانا بہت سنگین گناہ ہے۔
- مصیبت میں گھبراہٹ کے بجائے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
