صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۹ - حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت: حق بات کی توفیق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۶۹

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِيمَا مَضَى قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ وَإِنَّهُ إِنْ كَانَ فِي أُمَّتِي هَذِهِ مِنْهُمْ فَإِنَّهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گزشتہ امتوں میں محدث لوگ ہوا کرتے تھے اور اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۶۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پچھلی امتوں میں محدث لوگ ہوا کرتے تھے، اور اگر میری امت میں کوئی ایسا ہے تو وہ عمر بن خطاب ہیں۔ یہاں اصل موضوع حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت ہے۔ حدیث کے الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اللہ کی طرف سے حق بات کی خاص توفیق حاصل تھی۔ ہمیں اس حدیث سے یہ بات سمجھنی چاہیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان سے ثابت ہے۔ خاص طور پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا مقام امت میں بلند ہے، مگر حدیث کے الفاظ ہی تک بات رکھی جائے گی اور اس میں زائد دعوے نہیں کیے جائیں گے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فضیلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے۔
  • اللہ بعض بندوں کو حق بات کی خاص سمجھ عطا فرماتا ہے۔
  • صحابہ کرام کے مقام کو ادب کے ساتھ ماننا ایمان کا حصہ ہے۔
  • فضائل بیان کرتے وقت حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں