صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۸ - لوگوں سے مانگتے رہنے کا انجام

لوگوں سے مانگتے رہنے کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۸

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ ، حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " .

حمزہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی ہمیشہ لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن آئے گا اور اس کے منہ پر ایک بوٹی گوشت کی نہ ہو گی۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں واضح الفاظ ہیں کہ آدمی لوگوں سے سوال کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کی بوٹی نہ ہو گی۔ یہ بہت سخت تنبیہ ہے، اس لیے اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ حدیث کا تعلق اس شخص سے ہے جو مانگنے کو معمول بنا لیتا ہے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ مسلمان بلا ضرورت سوال سے بچے، اپنی محنت کو ترجیح دے، اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے لوگوں کے سامنے ذلت کے انداز سے ہاتھ نہ پھیلائے۔ مانگنے کی حدیث ہمیں یہ نہیں کہتی کہ حقیقی مجبور کی مدد نہ کی جائے؛ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سوال کی عادت انسان کے لیے دنیا اور آخرت میں نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوگوں سے مسلسل مانگنا سخت وعید کا سبب بتایا گیا ہے۔
  • بلا ضرورت سوال سے عزت نفس متاثر ہوتی ہے۔
  • محنت اور خودداری کو مانگنے پر ترجیح دینی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں