صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۷ - سوال کی عادت سے بچنا
سوال کی عادت سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۹۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۷
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَخِي الزُّهْرِيِّ هَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، وَلَمْ يَذْكُرْ " مُزْعَةُ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے لیکن اس میں «مُزْعَةُ» کا لفظ نہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے، صرف ایک لفظ کے فرق کا ذکر ہے۔ اصل بات وہی ہے کہ آدمی کا مسلسل لوگوں سے مانگتے رہنا خطرناک عادت ہے۔ حدیث میں اس عادت کے آخرت کے انجام کو سخت الفاظ میں بیان کیا گیا ہے تاکہ مسلمان بلا ضرورت سوال سے بچے۔ اس سے یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام ضرورت مند کو بے سہارا نہیں چھوڑتا، مگر مانگنے کو عادت بنا لینا پسندیدہ نہیں۔ سوال سے بچنے کی حدیث ہمیں محنت، قناعت اور وقار کا راستہ دکھاتی ہے۔ اگر انسان اپنی ضرورت کو کم کر لے، محنت کی طرف بڑھے اور لوگوں کے سامنے بار بار ہاتھ نہ پھیلائے تو اس کی عزت بھی محفوظ رہتی ہے اور دل بھی حرص سے بچتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مانگنے کو عادت بنا لینا خطرناک رویہ ہے۔
- حدیث کا مقصد بلا ضرورت سوال سے ڈرانا ہے۔
- محنت اور قناعت سوال کی عادت کو کم کرتی ہیں۔
