صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۶ - مسلسل مانگنے کی وعید

بلا ضرورت مانگنے کی حدیث اور اس کا انجام

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۶

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَزَالُ الْمَسْأَلَةُ بِأَحَدِكُمْ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ ، وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةُ لَحْمٍ " ،

عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیشہ تم میں کا آدمی مانگتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ سے ملے گا اور اس کے منہ پر ایک ٹکڑا بھی گوشت کا نہ ہو گا۔“ (یعنی حشر میں)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں مسلسل سوال کرنے کی عادت سے سخت انداز میں خبردار کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے آدمی مانگتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی نہ ہو گا۔ حدیث کا موضوع بلا ضرورت سوال اور مانگنے کی عادت ہے۔ اس میں ضرورت مند کی حقیقی مجبوری کا انکار نہیں، بلکہ اس عادت سے ڈرایا گیا ہے جس میں آدمی لوگوں سے مانگنے کو اپنا طریقہ بنا لے۔ مانگنے سے بچنے کی حدیث ہمیں خودداری، محنت اور قناعت کی طرف بلاتی ہے۔ جو شخص بلا ضرورت لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے، وہ اپنی عزت کو بھی بچاتا ہے اور دل کو حرص سے بھی دور رکھتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسلسل مانگنے کی عادت سے سختی کے ساتھ ڈرایا گیا ہے۔
  • بلا ضرورت سوال انسان کی عزت کو نقصان پہنچاتا ہے۔
  • خودداری اور قناعت کو اختیار کرنا بہتر رویہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں