صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۵ - سوال نہ کرنے والا مسکین

سوال نہ کرنے والے مسکین کی پہچان

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۵

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إسحاق ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ ، أنهما سمعا أبا هريرة ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَاعِيلَ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۵ کا خلاصہ

یہ روایت اوپر والی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ مسکین کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ بعض لوگ ضرورت مند ہوتے ہیں، مگر عزت نفس کی وجہ سے کسی سے کچھ نہیں مانگتے۔ وہ نہ لوگوں کے پاس چکر لگاتے ہیں، نہ اپنی حاجت کا شور کرتے ہیں، اس لیے بہت سے لوگ انہیں پہچان نہیں پاتے۔ حقیقی مسکین کی حدیث ہمیں صدقہ دینے میں سمجھ داری سکھاتی ہے۔ جس طرح کھلے طور پر سوال کرنے والے کی مدد ہو سکتی ہے، اسی طرح خاموش اور خوددار ضرورت مند کو بھی تلاش کرنا چاہیے۔ یہ حدیث معاشرے میں دھیان، نرمی اور ذمہ داری پیدا کرتی ہے، مگر اس کی بنیاد صرف اسی بات پر ہے کہ ہر مسکین مانگنے والا نہیں ہوتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت مند کی پہچان ہمیشہ ظاہری سوال سے نہیں ہوتی۔
  • خوددار مسکین لوگوں کی نظر سے اوجھل رہ سکتا ہے۔
  • صدقہ دیتے وقت خاموش حاجت مندوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں