صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۹ - اصل مسکین کون ہے؟
اصل مسکین کون ہے؟ لا يسألون الناس إلحافا کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۳۹
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ أَبِي نَمِرٍ , أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ , وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيَّ , قَالَا : سَمِعْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ , وَلَا اللُّقْمَةُ وَلَا اللُّقْمَتَانِ , إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الَّذِي يَتَعَفَّفُ , وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ " ، يَعْنِي قَوْلَهُ لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273 .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک یا دو کھجور، ایک یا دو لقمے در بدر لیے پھریں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مانگنے سے بچتا رہے اور اگر تم دلیل چاہو تو (قرآن سے) اس آیت کو پڑھ لو «لا يسألون الناس إلحافا» کہ ”وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۵۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مسکین کی پہچان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جسے ایک دو کھجوریں یا ایک دو لقمے در بدر لیے پھریں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مانگنے سے بچتا رہے۔ پھر آیت لا يسألون الناس إلحافا کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔ اس حدیث میں بہت نرم مگر گہرا سبق ہے۔ ہر ضرورت مند شخص اپنی ضرورت ظاہر نہیں کرتا۔ کچھ لوگ عزت نفس کی وجہ سے سوال نہیں کرتے، حالانکہ انہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے صدقہ اور مدد دیتے وقت صرف وہی شخص نہ دیکھا جائے جو سامنے آ کر مانگ رہا ہو، بلکہ ایسے باحیا محتاجوں کو بھی تلاش کیا جائے جو خاموش رہتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل مسکین کبھی وہ بھی ہو سکتا ہے جو مانگنے سے بچتا ہے۔
- صدقہ دیتے وقت خاموش ضرورت مندوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- لوگوں سے چمٹ کر مانگنا پسندیدہ طریقہ نہیں بتایا گیا۔
- حیا اور عزت نفس رکھنے والے محتاجوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
