صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۰ - سود کی آیات اور شراب کی تجارت

سود کی آیات اور شراب کی تجارت حرام ہونے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۰

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ : " لَمَّا نَزَلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا قَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّاسِ ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .

عائشہ روایت:

جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھ کر لوگوں کو سنایا اور اس کے بعد شراب کی تجارت بھی حرام قرار پائی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع سود اور حرام تجارت ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات سود کے بارے میں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد شراب کی تجارت بھی حرام قرار پائی۔ اس روایت میں دو باتیں نمایاں ہیں: پہلی یہ کہ قرآن کی آیات نازل ہونے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں لوگوں تک پہنچاتے تھے، دوسری یہ کہ مالی معاملات میں حلال و حرام کی پابندی ضروری ہے۔ یہاں صرف شراب پینے کی بات نہیں، بلکہ اس کی تجارت کا حکم بھی بیان ہوا۔ اس لیے مسلمان کے لیے کمائی کا ذریعہ بھی پاک ہونا چاہیے، صرف منافع کافی نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سود سے متعلق قرآنی حکم لوگوں کو واضح طور پر سنایا گیا۔
  • شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔
  • کمائی کے ذرائع میں حلال و حرام کا خیال ضروری ہے۔
  • قرآن کے حکم کے بعد عملی فیصلہ بھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بیان فرمایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں