صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۱ - مسجد میں آیات کی تلاوت اور حرمت تجارت خمر
حرام تجارت خمر اور مسجد میں اعلان کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۱
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ , أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ , سَمِعْتُ أَبَا الضُّحَى يُحَدِّثُ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ الْأَوَاخِرُ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ ، فَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
عائشہ روایت:
جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۱ کا خلاصہ
اس روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ دینی حکم لوگوں سے چھپایا نہیں گیا، بلکہ عام مسلمانوں کے سامنے مسجد میں بیان کیا گیا۔ شراب کے معاملے میں صرف ذاتی استعمال نہیں، بلکہ کاروبار اور خرید و فروخت کا پہلو بھی سامنے آیا۔ جو چیز حرام ہو، اس کی تجارت سے فائدہ اٹھانا بھی درست نہیں سمجھا گیا۔ اس روایت میں سود کی آیات، مسجد میں تعلیم، اور حرام مال سے بچنے کا مضمون ایک ساتھ آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی احکام لوگوں تک صاف انداز میں پہنچائے گئے۔
- شراب کی تجارت کو حرام قرار دیا گیا۔
- مسجد علم اور حکم پہنچانے کی جگہ بھی تھی۔
- حرام چیز سے کاروباری فائدہ لینا بھی قابل قبول نہیں۔
