صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۲ - شراب کی تجارت سے بچنے کی ہدایت

شراب کی تجارت حرام اور پاک کمائی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۲

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ وَحَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .

عائشہ روایت:

جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع حرام کمائی سے بچنا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔ اس روایت میں عملی تربیت کا انداز صاف ہے: پہلے وحی کی آیات سنائی گئیں، پھر ان سے متعلق حکم واضح کیا گیا۔ مسلمان کے لیے صرف عبادات ہی نہیں، خرید و فروخت بھی دین کا حصہ ہے۔ جو چیز اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے ناجائز ہو، اس سے کاروباری فائدہ اٹھانا بھی درست نہیں۔ اس حدیث کو سود، شراب کی تجارت، حرام مال اور پاک روزی کے موضوعات میں تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حلال کمائی مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔
  • شراب کی تجارت کو واضح طور پر حرام قرار دیا گیا۔
  • وحی کے حکم کو لوگوں تک عملی انداز میں پہنچایا گیا۔
  • کاروبار میں نفع کے ساتھ شرعی جواز بھی دیکھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں