صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۳ - شراب کی تجارت کی حرمت کا اعلان
شراب کی تجارت کی حرمت اور سورۃ البقرہ کی آخری آیات
صحیح بخاری : ۴۵۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۳
وقَالَ لَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي الضُّحَى , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : " لَمَّا أُنْزِلَتِ الْآيَاتُ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَهُنَّ عَلَيْنَا ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ " .
عائشہ روایت:
جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہمیں وہ آیات پڑھ کر سنائیں، پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔ اس روایت کا اصل پیغام بہت واضح ہے: دینی حکم آنے کے بعد اسے لوگوں کے سامنے بیان کیا گیا اور پھر حرام تجارت سے روک دیا گیا۔ یہاں شراب کے ذاتی استعمال کی بحث نہیں، بلکہ تجارت کا حکم خاص طور پر آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں مال کمانے کا راستہ بھی پاک ہونا چاہیے۔ جس چیز سے دین نے روکا ہو، اسے کاروبار بنا کر نفع لینا بھی درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔
- قرآن کی آیات لوگوں کو سنانے کے بعد حکم واضح کیا گیا۔
- مال کمانے میں حلال طریقہ ضروری ہے۔
- دینی حکم کو عملی زندگی، خصوصاً تجارت، میں نافذ کیا جاتا ہے۔
