صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۴ - نازل ہونے والی آخری آیت اور سود
سود کی آیت نازل ہونے والی آخری آیت کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۴۴
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ : " آخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آيَةُ الرِّبَا " .
ابن عباس روایت:
آخری آیت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ سود کی آیت تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع سود کی سنگینی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آیت سود کی آیت تھی۔ روایت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام اہم ہے۔ سود کا مسئلہ قرآن میں مالی معاملات کے بڑے احکام میں سے ہے، اور اس حدیث میں بتایا گیا کہ آخری نازل ہونے والی آیت بھی اسی موضوع سے متعلق تھی۔ اس سے کمائی، قرض، لین دین اور مالی ذمہ داری میں احتیاط کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ حدیث میں تفصیل نہیں دی گئی کہ کون سی صورتیں شامل ہیں؛ اس لیے تفصیلی فقہی مسائل علمائے کرام سے پوچھے جاتے ہیں۔ مگر یہاں بنیادی سبق یہ ہے کہ سود کو معمولی معاملہ نہ سمجھا جائے اور مال کے معاملات میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سود کا مسئلہ قرآن و حدیث میں بہت سنجیدہ مالی حکم کے طور پر آتا ہے۔
- مالی لین دین میں اللہ کے حکم کو سامنے رکھنا چاہیے۔
- مختصر روایت سے بھی اہم دینی اصول سمجھا جا سکتا ہے۔
- سود کی تفصیلی صورتوں میں اہل علم سے رہنمائی لینی چاہیے۔
