صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۴ - مسکین متعفف کی پہچان
مسکین متعفف کی حدیث: جو لپٹ کر نہیں مانگتا
صحیح مسلم : ۲۳۹۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِالَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَلَا اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، إِنَّمَا الْمِسْكِينُ الْمُتَعَفِّفُ ، اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ لا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا سورة البقرة آية 273 " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو ایک دو کھجور یا ایک دو لقمہ لے کر لوٹ جاتا ہے مسکین وہ ہے جو سوال نہیں کرتا تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لواللہ تعالیٰ فرماتا ہے «لاَ يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا» ”وہ لوگوں سے مانگتے نہیں لپٹ کر۔“ (۲-البقرۃ:۲۷۳)
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسکین کے بارے میں ہماری عام سوچ کو درست کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جو ایک دو کھجور یا ایک دو لقمے لے کر لوٹ جائے، بلکہ مسکین متعفف ہے، یعنی وہ جو سوال نہیں کرتا۔ حدیث میں قرآن کی آیت لا يسألون الناس إلحافا کی طرف بھی اشارہ ہے، یعنی وہ لوگوں سے لپٹ کر نہیں مانگتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ضرورت مند لوگ اپنی عزت اور شرم کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں۔ مسکین کون ہے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ صدقہ صرف ان لوگوں تک محدود نہ رہے جو سامنے آ کر مانگتے ہیں۔ معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حاجت رکھتے ہیں مگر زبان نہیں کھولتے، ان تک پہنچنا بھی نیکی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسکین کی ایک صورت وہ ہے جو سوال سے بچتا ہے۔
- مانگنے والے ہی نہیں، خاموش ضرورت مند بھی توجہ کے مستحق ہیں۔
- صدقہ دیتے وقت عزت نفس رکھنے والوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
