صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۹ - مال بڑھانے کے لیے مانگنا
مال بڑھانے کے لیے مانگنا چنگاریاں مانگنا ہے
صحیح مسلم : ۲۳۹۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۹
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا ، فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا ، فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو لوگوں سے مانگتا رہتا ہے اپنے مال کے بڑھانے کو (یعنی نہ ضرورت اور کفایت کے لئے) تو وہ چنگاریاں مانگتا ہے پھر چاہے کم لے یا زیادہ لے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ان لوگوں کے لیے سخت تنبیہ ہے جو ضرورت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے مانگتے ہیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایسا شخص چنگاریاں مانگتا ہے، پھر چاہے کم لے یا زیادہ لے۔ اس میں اصل مسئلہ حاجت نہیں، بلکہ تکثر یعنی مال بڑھانے کی خواہش ہے۔ اگر کوئی شخص محتاج نہیں مگر لوگوں کے مال کو اپنے مال میں اضافہ کے لیے لیتا ہے، تو حدیث اسے خطرناک عمل بتاتی ہے۔ مال کی حرص کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ ہر ملنے والی چیز فائدہ نہیں ہوتی۔ کبھی انسان ظاہری طور پر مال لے لیتا ہے، مگر دینی طور پر اپنے لیے نقصان جمع کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیے قناعت، سچائی اور بلا ضرورت سوال سے بچنا ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ضرورت کے بغیر مال بڑھانے کے لیے مانگنا سخت وعید کا سبب ہے۔
- کم یا زیادہ مقدار سے زیادہ اصل مسئلہ نیت اور ضرورت کا ہے۔
- قناعت انسان کو حرص اور ناجائز سوال سے بچاتی ہے۔
