صحیح بخاری حدیث ۳۴۹۰ - عزت کا معیار تقویٰ
تقویٰ کی حدیث: سب سے زیادہ عزت والا کون ہے؟
صحیح بخاری : ۳۴۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ، قَالَ : أَتْقَاهُمْ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَيُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ " .
ابوہریرہ روایت:
ایک مرتبہ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارا سوال اس کے بارے میں نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر (نسب کی رو سے) اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ شریف تھے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع تقویٰ ہے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔ پھر جب صحابہ نے بتایا کہ ان کا سوال نسب کے بارے میں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوسف علیہ السلام کا ذکر فرمایا۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل عزت کا معیار تقویٰ ہے، یعنی اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا۔ نسب کی بات الگ ہو سکتی ہے، مگر دینی قدر کے لحاظ سے انسان کی بلندی پرہیزگاری سے ہے۔ تقویٰ کی حدیث، سب سے شریف کون، اور عزت کا معیار اسلام میں جیسے سرچ الفاظ اسی پیغام کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ روایت ہمیں اپنے خاندان یا نام پر فخر کے بجائے اپنے عمل اور پرہیزگاری کی فکر سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل دینی عزت تقویٰ اور پرہیزگاری سے ہے۔
- نسب کا سوال الگ تھا، مگر پہلے جواب میں تقویٰ کو معیار بتایا گیا۔
- یوسف علیہ السلام کا ذکر نسبی شرافت کے جواب میں آیا۔
- انسان کو اپنی بڑائی کے بجائے پرہیزگاری پر توجہ دینی چاہیے۔
