صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۸ - نسب کی سچائی اور جھوٹے دعوے سے بچاؤ
نسب کی حدیث: اصل باپ اور سچی پہچان کی اہمیت
صحیح بخاری : ۳۵۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۰۸
حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، عَنْ الْحُسَيْنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَعْمَرَ ، أَنَّ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيلِيّ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَيْسَ مِنْ رَجُلٍ ادَّعَى لِغَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُهُ إِلَّا كَفَرَ وَمَنِ ادَّعَى قَوْمًا لَيْسَ لَهُ فِيهِمْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " .
ابوذر روایت:
´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن واقد نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی (نسبی) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۰۸ کا خلاصہ
یہ حدیث نسب کی سچائی کے بارے میں بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنائے، اس نے کفر کیا۔ اسی طرح جو شخص اپنا نسب کسی ایسی قوم سے جوڑے جس سے اس کا نسبی تعلق نہیں، اس کے لیے جہنم کی سخت وعید آئی ہے۔ اس حدیث میں اصل بات جان بوجھ کر جھوٹا نسب اختیار کرنے کی ہے۔ یعنی آدمی کو معلوم ہو کہ یہ اس کا اصل باپ نہیں، پھر بھی وہ اسے اپنا باپ کہے یا اپنی پہچان کسی غیر قوم سے ملائے۔ اس لیے باپ کے علاوہ کسی کو باپ کہنا، جھوٹا نسب بنانا، اور اپنی اصل خاندانی پہچان بدلنا بہت سنگین معاملہ ہے۔ مسلمان کو اپنی نسبت، خاندان اور اصل پہچان میں سچائی اختیار کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جان بوجھ کر اصل باپ کے بجائے کسی اور کو باپ بنانا سخت گناہ ہے۔
- اپنا نسب ایسی قوم سے جوڑنا جس سے تعلق نہ ہو، حدیث کے مطابق سخت وعید کا سبب ہے۔
- نسب اور خاندانی پہچان میں سچ بولنا ضروری ہے۔
- حدیث میں وعید اسی صورت پر ہے جب آدمی جانتے ہوئے جھوٹا دعویٰ کرے۔
