صحیح مسلم حدیث ۱۲۱ - دعوت، نماز اور زکوٰۃ کا درست طریقہ

دعوتِ اسلام، پانچ نمازیں اور زکوٰۃ کا عدل

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۱

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ وَكِيعٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : رُبَّمَا ، قَالَ وَكِيعٌ : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاذًا ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمًا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً ، تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ ، فَتُرَدُّ فِي فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ حِجَابٌ " .

معاذ بن جبل روایت:

مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یمن کی طرف حاکم کر کے) بھیجا تو فرمایا: ”تم ملو گے کچھ لوگوں سے اہل کتاب کے تو بلانا ان کو اس بات کی گواہی کی طرف کہ کوئی معبود برحق نہیں سوا اللہ کے اور میں اللہ کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اگر وہ اس کو مان لیں تو بتلانا ان کو یہ بات کہ اللہ نے ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اس کو مان لیں تو ان کو یہ بات بتلانا کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی پھر انہی کے فقیروں اور محتاجوں کو دی جائے گی۔ اگر وہ اس بات کو مان لیں تو خبردار نہ لینا عمدہ مال ان کے (یعنی زکوٰۃ میں متوسط جانور لینا، عمدہ دودھ والا اور پرگوشت فربہ چھانٹ کر نہ لینا اور مظلوم کی بددعا سے بچنا کیونکہ مظلوم کی بددعا اور اللہ کے درمیان کوئی روک نہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۱ کا خلاصہ

یہ حدیث دین کی دعوت کا صاف اور آسان طریقہ بتاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے وقت فرمایا کہ اہل کتاب کو سب سے پہلے توحید اور رسالت کی گواہی کی طرف بلایا جائے۔ جب وہ اسے مان لیں تو انہیں پانچ نمازوں کی فرضیت بتائی جائے۔ پھر زکوٰۃ کا حکم بتایا جائے کہ یہ مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں کو دی جائے گی۔ اس حدیث کا اہم سبق یہ بھی ہے کہ زکوٰۃ لیتے وقت لوگوں کا بہترین مال نہ لیا جائے۔ ساتھ ہی مظلوم کی بددعا سے بچنے کی سخت نصیحت ہے، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت میں سب سے پہلے توحید اور رسالت کی بات پیش کی جائے۔
  • پانچ نمازیں دن اور رات میں فرض عبادت ہیں۔
  • زکوٰۃ مالداروں سے لے کر محتاجوں کو دی جاتی ہے۔
  • کسی پر ظلم نہ کیا جائے، کیونکہ مظلوم کی بددعا قبولیت کے قریب ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں