صحیح مسلم حدیث ۱۲۲ - اہل کتاب کو دعوت دینے کی ترتیب

اہل کتاب کو دعوت دینے کا نبوی انداز

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۲۲

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاق . ح حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا بِمِثْلِ حَدِيثِ وَكِيعٍ .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کا حاکم بنا کر بھیجا اور فرمایا: ”عنقریب تم اہل کتاب کے کچھ لوگوں کے پاس جا رہے ہو۔“ جو اوپر گزری صرف سند کا فرق ہے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۲۲ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعہ کو ایک دوسری سند سے بیان کرتی ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا۔ حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ دین کی دعوت سمجھ داری اور ترتیب کے ساتھ دی جائے۔ پہلے مخاطب کے حال کو پہچانا جائے، پھر اسے بنیادی ایمان یعنی اللہ کی وحدانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی طرف بلایا جائے۔ اس کے بعد نماز اور زکوٰۃ جیسے فرائض بتائے جائیں۔ اس روایت میں یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ ایک ہی صحیح مضمون مختلف سندوں سے نقل ہو سکتا ہے، جس سے حدیث کا علم محفوظ رہتا ہے۔ دعوتِ اسلام میں نرمی، وضاحت اور عدل بہت اہم ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دعوت دینے والے کو مخاطب کے پس منظر کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • دین کی بات ترتیب کے ساتھ سمجھائی جائے۔
  • توحید کے بعد نماز اور زکوٰۃ جیسے فرائض بتائے جائیں۔
  • حدیث کے مضمون کو محفوظ کرنے میں سند کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں