سنن نسائی حدیث ۲۵۲۳ - زکاۃ مالداروں سے لے کر محتاجوں کو دی جائے
زکاۃ کا مقصد: مالداروں سے لے کر محتاجوں تک
سنن نسائی : ۲۵۲۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۲۳
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ وَكَانَ ثِقَةً ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ، فَقَالَ : " إِنَّكَ تَأْتِي قَوْمَا أَهْلَ كِتَابٍ فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ ، فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدِ افْتَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً فِي أَمْوَالِهِمْ تُؤْخَذُ مِنْ أَغْنِيَائِهِمْ ، فَتُوضَعُ فِي فُقَرَائِهِمْ ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوكَ لِذَلِكَ ، فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهَا لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِجَابٌ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: ”تم ایک ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں، تم انہیں اس بات کی گواہی کی دعوت دو کہ اللہ کے علاوہ کوئی حقیقی معبود نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان پر ہر دن اور رات میں پانچ (وقت کی) نمازیں فرض کی ہیں، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ عزوجل نے ان کے مالوں میں زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی، اور ان کے محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے گی، اگر وہ تمہاری یہ بات (بھی) مان لیں تو ان کے اچھے و عمدہ مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بد دعا سے بچو کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں“۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں دین کی دعوت کا ایک صاف ترتیب والا انداز ملتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا کہ پہلے لوگوں کو اللہ کی توحید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی کی دعوت دو۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں پانچ وقت کی نماز کے بارے میں بتاؤ۔ پھر زکاۃ کا حکم بتاؤ کہ یہ مالداروں سے لی جائے گی اور محتاجوں میں تقسیم کی جائے گی۔ اس حدیث میں زکاۃ کا مقصد بھی صاف ہے کہ معاشرے کے غریب لوگوں کی مدد ہو۔ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا گیا کہ زکاۃ لیتے وقت لوگوں کے بہترین مال لینے سے بچو، اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی دعوت میں توحید، نماز اور زکاۃ کی ترتیب کا خیال رکھا گیا۔
- زکاۃ مالداروں سے لے کر محتاجوں میں تقسیم کی جاتی ہے۔
- زکاۃ وصول کرتے وقت اچھے اور عمدہ مال پر زیادتی نہیں کرنی چاہیے۔
- مظلوم کی دعا سے بچنا چاہیے، کیونکہ ظلم بہت سخت معاملہ ہے۔
