سنن نسائی حدیث ۲۵۲۲ - صدقہ فطر نماز سے پہلے ادا کریں

صدقہ فطر کا وقت: عید نماز سے پہلے ادائیگی

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۲۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ ، أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " , قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ : بِزَكَاةِ الْفِطْرِ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۲۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں صدقہ فطر کا وقت بہت صاف انداز میں بتایا گیا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کو عید کی نماز سے پہلے دینا اصل ہدایت ہے۔ روایت میں ایک جگہ صدقہ فطر اور دوسری جگہ زکاۃ فطر کے الفاظ آئے ہیں، مگر بات ایک ہی ہے کہ عید سے پہلے مستحق تک یہ حق پہنچ جائے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت کے ساتھ لوگوں کی ضرورت کا بھی خیال رکھا جائے، اور صدقہ فطر کو ٹالنے کے بجائے وقت پر ادا کیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا چاہیے۔
  • فطرانہ کو وقت پر مستحق تک پہنچانا نبوی حکم ہے۔
  • صدقہ فطر اور زکاۃ فطر دونوں الفاظ اس روایت میں آئے ہیں۔
  • عبادت کے دن ضرورت مندوں کا خیال رکھنا بھی دین کا حصہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں