سنن نسائی حدیث ۲۵۳۵ - بہتر صدقہ دل کی بے نیازی کے ساتھ

بہتر صدقہ: پہلے اپنے زیر کفالت لوگوں کا حق

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۳۵

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بَكْرٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو، اور اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے۔ اور پہلے صدقہ انہیں دو جن کی کفالت و نگرانی تمہارے ذمہ ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۳۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہتر صدقہ کی پہچان بتائی۔ آپ نے فرمایا کہ بہتر صدقہ وہ ہے جو مالداری کی برقراری اور دل کی بے نیازی کے ساتھ ہو۔ پھر فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، اور پہلے ان لوگوں سے شروع کرو جن کی کفالت تمہارے ذمہ ہے۔ اس حدیث میں صدقہ کے ساتھ گھریلو ذمہ داری کا بھی ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی صدقہ کرتے ہوئے اپنے گھر والوں اور زیر کفالت افراد کی ضرورت کو نظر انداز نہ کرے۔ اس روایت کا اصل پیغام یہ ہے کہ صدقہ اچھا عمل ہے، مگر اس میں توازن، ذمہ داری اور دل کی بے نیازی بھی ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بہتر صدقہ وہ ہے جو بے نیازی کے ساتھ ہو۔
  • زیر کفالت لوگوں کی ضرورت پہلے دیکھی جائے۔
  • دینے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر بتایا گیا ہے۔
  • صدقہ میں ذمہ داری اور توازن کا خیال رکھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں