سنن نسائی حدیث ۲۵۳۳ - پہلے اپنے زیر کفالت لوگوں پر خرچ کرو
صدقہ اور خرچ کی ترتیب: پہلے اپنے قریبی لوگوں سے
سنن نسائی : ۲۵۳۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۳۳
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ " .
طارق محاربی روایت:
ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۳۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ مدینہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ دے رہے تھے۔ آپ فرما رہے تھے کہ دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے۔ پھر آپ نے خرچ کی ترتیب بتائی کہ پہلے ان لوگوں سے شروع کرو جن کی کفالت تم پر ہے: اپنی ماں، پھر باپ، پھر بہن، پھر بھائی، پھر قریبی، پھر اس کے بعد کے قریبی۔ یہ روایت مختصر ہے، مگر اس میں صدقہ اور خرچ کے بارے میں بہت عملی رہنمائی ہے۔ خرچ صرف باہر کے لوگوں پر نہیں، بلکہ پہلے گھر اور قریبی ذمہ داریوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ سخاوت کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینے والا ہاتھ بہتر بتایا گیا ہے۔
- خرچ کی ابتدا زیر کفالت اور قریبی لوگوں سے کرنی چاہیے۔
- ماں، باپ، بہن اور بھائی کی ضرورت کا خاص خیال رکھا گیا۔
- صدقہ اور خرچ میں ذمہ داری کی ترتیب اہم ہے۔
