سنن نسائی حدیث ۲۵۳۴ - دینے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر

اوپر والا ہاتھ: خرچ کرنے والا ہاتھ بہتر ہے

سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۳۴

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ عَنِ الْمَسْأَلَةِ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ ، وَالْيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (اس وقت آپ صدقہ و خیرات اور مانگنے سے بچنے کا ذکر کر رہے تھے): اوپر والا ہاتھ بہتر ہے نیچے والے ہاتھ سے، اور اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔

سنن نسائی حدیث ۲۵۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ اور سوال سے بچنے کا ذکر فرما رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ پھر خود وضاحت فرما دی کہ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہاتھ ہے، اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والا ہاتھ ہے۔ اس سے حدیث کا مفہوم بہت صاف ہو جاتا ہے۔ یہاں صدقہ، خرچ، تعفف اور مانگنے سے بچنے کی بات ہے۔ انسان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق دینے والا بنے، اور بلا ضرورت سوال سے بچے۔ حدیث میں یہ بات بھی ہے کہ دینے کی حالت کو بہتر بتایا گیا ہے، اس لیے مال کے استعمال میں سخاوت اور خودداری دونوں کی ترغیب ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرچ کرنے والا ہاتھ مانگنے والے ہاتھ سے بہتر بتایا گیا ہے۔
  • بلا ضرورت سوال سے بچنا پسندیدہ رویہ ہے۔
  • صدقہ اور تعفف دونوں کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔
  • انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق دینے والا بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں