سنن نسائی حدیث ۲۵۳۶ - صدقہ میں پہلے اپنی ضرورت اور گھر والوں کا حق
صدقہ کی ترتیب: اپنی ذات، بیوی، اولاد اور خادم
سنن نسائی : ۲۵۳۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۲۵۳۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! عِنْدِي دِينَارٌ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " أَنْتَ أَبْصَرُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دو“، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: ”اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر صدقہ کر دو“، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: آپ بہتر سمجھنے والے ہیں (جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو“)۔
سنن نسائی حدیث ۲۵۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں صدقہ کی عملی ترتیب بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صدقہ دو۔ ایک آدمی نے کہا کہ میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ نے فرمایا اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو۔ اس نے کہا ایک اور ہے، آپ نے فرمایا اپنی بیوی پر صدقہ کرو۔ پھر ایک اور کا ذکر کیا تو فرمایا اپنے بیٹے پر صدقہ کرو۔ پھر ایک اور پر فرمایا اپنے خادم پر صدقہ کرو۔ آخر میں جب اس نے ایک اور دینار کا ذکر کیا تو فرمایا تم بہتر سمجھنے والے ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ اور خرچ میں اپنی بنیادی ضرورت، بیوی، اولاد اور خادم جیسے ذمہ دار لوگوں کو نظر انداز نہیں کیا جاتا۔ یہ روایت خرچ کی ترجیح کو بہت آسان مثال سے سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خرچ میں اپنی بنیادی ضرورت کا خیال رکھا گیا ہے۔
- بیوی اور اولاد پر خرچ کو بھی صدقہ کہا گیا۔
- خادم کی ضرورت کا بھی ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- اضافی مال کے بارے میں آدمی اپنی ضرورت کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔
