صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۱ - مشرق کی طرف سے فتنہ
فتنہ کی حدیث: مشرق کی طرف سے خبردار کرنے والی نبوی تنبیہ
صحیح بخاری : ۳۵۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا يُشِيرُ إِلَى الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر فرما رہے تھے ”آگاہ ہو جاؤ اس طرف سے فساد پھوٹے گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ کر کے یہ جملہ فرمایا، جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۱ کا خلاصہ
یہ حدیث فتنہ کے بارے میں ایک واضح نبوی تنبیہ بیان کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خبردار ہو جاؤ، فتنہ اس طرف سے ظاہر ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف اشارہ فرمایا اور بتایا کہ وہی طرف ہے جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مسلمان فتنہ، فساد اور شیطانی اثرات سے غافل نہ رہے۔ حدیث میں کسی لمبی بحث یا الگ حکم کا ذکر نہیں، بلکہ ایک مختصر مگر مضبوط تنبیہ ہے۔ اس لیے اسے فتنہ کی حدیث، مشرق سے فتنہ، اور شیطان کے سینگ والی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔ مسلمان کے لیے اس میں سبق ہے کہ وہ دین کے معاملے میں ہوشیار رہے، ہر فساد کو معمولی نہ سمجھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دی ہوئی خبر کو سنجیدگی سے لے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ کے ظاہر ہونے سے پہلے امت کو خبردار فرمایا۔
- حدیث میں مشرق کی طرف اشارہ کر کے فتنہ کے ایک رخ کو بیان کیا گیا ہے۔
- مسلمان کو فساد اور شیطانی اثرات سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔
- دین کی بات سن کر اسے سنجیدگی سے لینا ایمان والے رویے کا حصہ ہے۔
