صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۰ - ایمان اور چار بنیادی احکام
صحیح بخاری حدیث 3510: وفد عبدالقیس اور ایمان کے بنیادی احکام
صحیح بخاری : ۳۵۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۱۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا مِنْ هَذَا الْحَيِّ مِنْ رَبِيعَةَ قَدْ حَالَتْ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ فَلَسْنَا نَخْلُصُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي كُلِّ شَهْرٍ حَرَامٍ فَلَوْ أَمَرْتَنَا بِأَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ وَنُبَلِّغُهُ مَنْ وَرَاءَنَا ، قَالَ : آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ الْإِيمَانِ بِاللَّهِ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَأَنْ تُؤَدُّوا إِلَى اللَّهِ خُمْسَ مَا غَنِمْتُمْ وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ ، وَالْحَنْتَمِ ، وَالنَّقِيرِ ، وَالْمُزَفَّتِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
قبیلہ عبدالقیس کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور ہمارے اور آپ کے درمیان (راستے میں) کفار مضر کا قبیلہ پڑتا ہے، اس لیے ہم آپ کی خدمت اقدس میں صرف حرمت کے مہینوں میں ہی حاضر ہو سکتے ہیں۔ مناسب ہوتا اگر آپ ہمیں ایسے احکام بتلا دیتے جن پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہتے اور جو لوگ ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں انہیں بھی بتا دیتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں، اول اللہ پر ایمان لانے کا، یعنی اس کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور نماز قائم کرنے کا اور زکوٰۃ ادا کرنے کا اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں مال غنیمت ملے اس میں سے پانچواں حصہ اللہ کو (یعنی امام وقت کے بیت المال کو) ادا کرو اور میں تمہیں دباء، حنتم، نقیر اور مزفت (کے استعمال) سے منع کرتا ہوں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۱۰ کا خلاصہ
یہ حدیث وفد عبدالقیس کی حدیث کے نام سے تلاش کی جاتی ہے، اور اس کا اصل موضوع ایمان اور عملی احکام ہیں۔ قبیلہ عبدالقیس کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ راستے میں کفار مضر کی وجہ سے وہ صرف حرمت والے مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ اس لیے انہوں نے ایسے احکام پوچھے جن پر وہ خود بھی قائم رہیں اور اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتا سکیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چار باتوں کا حکم دیا: اللہ پر ایمان، یعنی لا الہ الا اللہ کی گواہی، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ ادا کرنا۔ ساتھ ہی چار چیزوں یعنی دباء، حنتم، نقیر اور مزفت سے منع فرمایا۔ اس طرح صحیح بخاری حدیث 3510 ہمیں بتاتی ہے کہ دین کی بنیادی باتیں سیکھنا، ان پر عمل کرنا، اور انہیں آگے پہنچانا بہت ذمہ داری کا کام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی بات پوچھ کر سمجھنا اور پھر اپنے لوگوں تک پہنچانا اس روایت میں صاف طور پر موجود ہے۔
- ایمان کی بنیاد اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی پر رکھی گئی ہے۔
- نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ دینا اس حدیث کے واضح احکام میں شامل ہیں۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چار برتنوں سے منع فرمایا، ان سے بچنے کا حکم اسی روایت میں آیا ہے۔
