صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۵ - قریبی رشتہ داروں کو دعوت
قریبی رشتہ داروں کو دعوت دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۵
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُنَادِي يَا بَنِي فِهْرٍ يَا بَنِي عَدِيٍّ لِبُطُونِ قُرَيْشٍ .
عبداللہ بن عباس روایت:
جب (سورۃ الشعراء کی) یہ آیت اتری «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اے پیغمبر! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف قبیلوں کو بلایا اے بنی فہر! اے بنی عدی! جو قریش کے خاندان تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۵ کا خلاصہ
یہ حدیث دعوت اور قریبی رشتہ داروں کو خبردار کرنے کے بارے میں ہے۔ جب آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے مختلف خاندانوں کو پکارا۔ حدیث میں بنی فہر اور بنی عدی کا نام آیا ہے، جو قریش کے خاندان تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کی بات سب سے پہلے اپنے قریب کے لوگوں تک پہنچانا بھی اہم ہے۔ قریبی رشتہ داروں کو دعوت دینے کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دعوت صرف عام لوگوں کے لیے نہیں، گھر، خاندان اور قبیلے کے لوگوں کے لیے بھی ہے۔ اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی نصیحت قریبی رشتہ داروں تک بھی پہنچانی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کے حکم پر فوراً عمل کیا۔
- دعوت میں خاندان اور قبیلے کے لوگوں کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
- نصیحت کا مقصد لوگوں کو اللہ کے حکم کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
