صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۷ - اپنا عمل اور نجات
اپنی جان کو اللہ سے بچانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۲۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ ، يَا أُمَّ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ اشْتَرِيَا أَنْفُسَكُمَا مِنَ اللَّهِ لَا أَمْلِكُ لَكُمَا مِنَ اللَّهِ شَيْئًا سَلَانِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمَا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے عبدمناف کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ سے خرید لو (یعنی نیک کام کر کے انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لو)۔ اے عبدالمطلب کے بیٹو! اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو۔ اے زبیر بن عوام کی والدہ! رسول اللہ کی پھوپھی، اے فاطمہ بنت محمد! تم دونوں اپنی جانوں کو اللہ سے بچا لو۔ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ تم دونوں میرے مال میں جتنا چاہو مانگ سکتی ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۷ کا خلاصہ
یہ حدیث عمل اور اپنی نجات کی فکر کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عبد مناف، بنی عبدالمطلب، اپنی پھوپھی اور اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مخاطب کیا اور فرمایا کہ اپنی جانوں کو اللہ سے بچا لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ میں تمہارے لیے اللہ کی بارگاہ میں کچھ اختیار نہیں رکھتا، البتہ میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتی ہو۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رشتہ بہت معزز ہو، پھر بھی انسان کو اپنے عمل کی فکر کرنی ہے۔ اپنی نجات کی حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دین میں ذاتی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قریبی رشتہ بھی انسان کو عمل کی ذمہ داری سے آزاد نہیں کرتا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو بھی نصیحت فرمائی۔
- آخرت کے معاملے میں اللہ ہی اصل مالک و حاکم ہے۔
- مالی مدد الگ بات ہے، نجات کے لیے اللہ کی اطاعت ضروری ہے۔
