صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۶ - قبائل کو دعوت دینا
قبائل کو دین کی دعوت دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۵۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۶
وَقَالَ لَنَا قَبِيصَةُ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُمْ قَبَائِلَ قَبَائِلَ " .
ابن عباس روایت:
جب یہ آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے۔“ اتری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے الگ الگ قبائل کو دعوت دی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی دعوت کے موضوع سے متعلق ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب آیت نازل ہوئی کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو قبیلہ قبیلہ دعوت دی۔ اس روایت میں لمبی تفصیل نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے حکم کو قریبی لوگوں تک پہنچایا۔ قبائل کو دعوت دینے کی حدیث ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ دینی بات پہنچاتے وقت مخاطب لوگوں کو واضح طور پر پکارا جا سکتا ہے۔ یہاں دعوت کا تعلق ڈرانے، سمجھانے اور اللہ کے حکم سے خبردار کرنے سے ہے۔ اس روایت کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کا حکم آنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کا کام کیا۔
- دعوت میں قریبی لوگوں کو الگ الگ مخاطب کیا جا سکتا ہے۔
- دین کی بات پہنچانا سنجیدہ ذمہ داری ہے۔
- حدیث میں قبائل کو دعوت دینے کا واضح طریقہ ذکر ہوا ہے۔
