صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۸ - بھانجا بھی قوم میں شامل ہے

بھانجا بھی اسی قوم میں ہوتا ہے: رشتہ داری کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۲۸

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ ، فَقَالَ : " هَلْ فِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ ؟ ، قَالُوا : لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور سے ایک مرتبہ بلایا، پھر ان سے پوچھا کیا تم لوگوں میں کوئی ایسا شخص بھی رہتا ہے جس کا تعلق تمہارے قبیلے سے نہ ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ایسا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۲۸ کا خلاصہ

یہ حدیث رشتہ داری اور قوم کے تعلق کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو خاص طور پر بلایا اور پوچھا کہ کیا تم میں کوئی غیر قوم کا آدمی بھی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف ہمارا ایک بھانجا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بھانجا بھی اسی قوم میں داخل ہوتا ہے۔ بھانجے کی حدیث بہت مختصر ہے، مگر اس میں رشتہ داری کی نرمی اور قبولیت کا پہلو صاف نظر آتا ہے۔ اس حدیث سے اتنا ہی سمجھنا چاہیے کہ بھانجے کو اجنبیت کے دائرے میں نہیں رکھا گیا، بلکہ قوم کے ساتھ نسبت دی گئی۔ یہ بات خاندانی تعلقات میں محبت اور اپنائیت پیدا کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بھانجے کو خاندان اور قوم سے الگ نہیں سمجھا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ داری کے تعلق کو اہمیت دی۔
  • خاندانی نسبت میں نرمی اور اپنائیت کا پہلو موجود ہے۔
  • مختصر حدیث بھی معاشرتی ادب سکھا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں