صحیح بخاری حدیث ۳۵۴۶ - ٹھوڑی کے چند سفید بال

کیا نبی صلى الله عليه وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ حدیث کا آسان بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۵۴۶

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ شَيْخًا ، قَالَ : كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ " .

حریز بن عثمان روایت:

´ہم سے عصام بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حریز بن عثمان نے بیان کیا` اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۵۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم بوڑھے ہو گئے تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی ٹھوڑی کے چند بال سفید ہو گئے تھے۔ یہ جواب بہت سادہ اور محتاط ہے۔ راوی نے بڑھاپے کے بارے میں لمبی بات نہیں کی، بلکہ جو بات ثابت تھی وہی بتائی۔ اس سے نبی صلى الله عليه وسلم کے شمائل میں سفید بالوں کا ایک مختصر ذکر سامنے آتا ہے۔ اس حدیث کو لوگ نبی صلى الله عليه وسلم کے سفید بال، نبی صلى الله عليه وسلم کا بڑھاپا، اور شمائل رسول صلى الله عليه وسلم کے عنوان سے تلاش کرتے ہیں۔ اصل پیغام یہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرہ مبارک کے قریب چند سفید بال تھے، مگر روایت میں اس سے زیادہ تفصیل بیان نہیں کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی بات بیان کرتے ہوئے اتنی ہی بات کہنی چاہیے جتنی ثابت ہو۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے اوصاف صحابہ رضی اللہ عنہم نے احتیاط سے بیان کیے۔
  • اس حدیث میں بڑھاپے کی تفصیل نہیں، صرف چند سفید بالوں کا ذکر ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں